منگل 11 اگست 2026 - 23:10
ادبیاتِ عرب پر عبور کے بغیر دین فہمی ناممکن ہے / جدید تدریسی اسالیب وقت کی اہم ضرورت ہیں

حوزہ / جامعہ طوسی، کواردو میں ’’ادبیاتِ عرب کی تدریس کے جدید اسالیب‘‘ کے موضوع پر چار روزہ تدریسی ورکشاپ کے موقع پر خصوصی نشست منعقد ہوئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ طوسی کے پرنسپل حجت الاسلام شیخ اکبر مخلصی نے نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعۃ المصطفیٰ پاکستان کی جانب سے اس اہم تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے امام رضا علیہ السلام سے منقول مشہور حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں سب سے پہلے خود اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو سیکھنا چاہیے اور پھر انہیں دوسروں تک پہنچانا چاہیے، تاکہ لوگ ان تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے ان کی پیروی کرسکیں۔

حجت الاسلام شیخ اکبر مخلصی نے دین فہمی میں عربی زبان و ادب کی بنیادی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ادبیاتِ عرب پر مضبوط عبور کے بغیر دینی متون کو صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا: بہت سے اہل علم اور دانشور اس لیے فکری انحراف کا شکار ہوئے کہ وہ عربی زبان و ادب کے بنیادی اصولوں سے پوری طرح آشنا نہیں تھے۔

انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم، احادیث اور دیگر دینی متون کے صحیح فہم، ترجمہ، تفسیر اور تشریح کے لیے عربی قواعد و ادبیات پر مضبوط دسترس ضروری ہے۔ عربی متون پر عبور کے بغیر دینی علوم میں گہرائی پیدا نہیں ہوسکتی جبکہ صرف و نحو عربی متون کے فہم کی بنیادی اور اولین منزل ہے۔

ان کا کہنا تھا: جو شخص عربی ادبیات کے ذریعے دینی متون کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرتا، وہ محض مطالعاتی سطح پر معلومات تو جمع کرسکتا ہے، لیکن دینی علوم میں گہرائی اور اجتہادی بصیرت کی منزل تک پہنچنا اس کے لیے مشکل ہوگا۔

حجت الاسلام شیخ اکبر مخلصی نے کہا: جو شخص دین کو اس کے بنیادی اور معتبر مصادر سے صحیح طور پر سمجھنا چاہتا ہے، اس کے لیے زبان و ادب پر عبور حاصل کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے ادبیاتِ عرب کی تدریس کے اس سلسلے کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے اور اسے مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔

ادبیاتِ عرب پر عبور کے بغیر دین فہمی ناممکن ہے / جدید تدریسی اسالیب وقت کی اہم ضرورت ہیں

ورکشاپ کے مدرس حجت الاسلام ڈاکٹر سید بشیر نقوی نے بلتستان جیسے نسبتاً دور افتادہ خطے میں علماء کی دینی، علمی اور تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے اخلاصِ الٰہی اور دین کی خدمت کی بہترین مثال قرار دیا۔

انہوں نے کہا: ادبیاتِ عرب کی تدریس کے جدید اسالیب وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ آج دنیا کے مختلف شعبوں میں مسلسل تبدیلی اور جدت آرہی ہے، اس لیے دینی مدارس کے نظامِ تعلیم و تدریس میں بھی ایسے مؤثر اور جدید طریقۂ تدریس کو بروئے کار لانا ضروری ہے جو طلبہ کے لیے تعلیم کو آسان، قابلِ فہم اور مؤثر بنائے۔

حجت الاسلام ڈاکٹر بشیر نقوی نے مزید کہا: طلاب کو آسان اور مؤثر انداز میں عربی زبان و ادب کی تعلیم دینا اور اسے قرآن و حدیث کے متون پر عملی تطبیق کے ساتھ سمجھانا ایک اہم علمی خدمت ہے۔

انہوں نے کہا: اگر تدریس کا مقصد صرف معلومات کی منتقلی کے بجائے طلبہ میں فہم، تطبیق اور عملی مہارت پیدا کرنا ہو تو یہ علم کی ترویج اور دین کی خدمت کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha